تعارف کراچی آلو پیاز منڈی

کراچی سبزی فروٹ منڈی پاکستان کی سب سے بڑی منڈی ہے جو کہ 110ایکڑ پر قائم ہے محل وقوع گڈاپ ٹاؤن سپر ہائی وے ٹول پلازہ سے ایک کلومیٹر آگے شہر کی طرف سڑک کے شمالی سمت میں ہے سڑک سے تین گیٹ ہیں شہر کی طرف سے پہلا گیٹ آلو پیاز منڈی کا ہے جبکہ دوسرا گیٹ سبزی منڈی کا ہے تیسرا گیٹ فروٹ منڈی کا ہے آلو پیاز منڈی میں 14بلاک تعمیر کئے گئے ہیں جو کہ گیٹ 1سے شمال کی طرف غربی دیوار کے ساتھ ساتھ ہیں آکشن شیڈ بھی ہر بلاک کے ساتھ ہے یہ منڈی 2002ء میں اس جگہ قائم کی گئی اور اس کی سڑکیں شیڈ اور آکشن شیڈ بنانے کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے قرضہ لیا گیا۔

آلو پیا زکے علاقے

سندھ میں آلو کی کاشت نہیں ہوتی جبکہ پیاز کی کاشت خوب ہوتی ہے بدین اور ٹھٹھہ کا پیاز پاکستان بھر میں سب سے پہلے آجاتا ہے کیونکہ یہاں کا موسم سردیوں میں کم سرد اور گرمیوں میں کم گرم ہوتا ہے سندھ کا پیاز ختم ہوتے ہی ہرنائی (بلوچستان)کا پیاز شروع ہوجاتا ہے اور اس کے بعد خاران اور چاغی (بلوچستان)کا پیاز اس منڈی میں آجاتا ہے یوں پورا سال تازہ پیاز دستیاب ہوتا ہے۔
پاکستان میں آلو کی سب سے بڑی منڈی اوکاڑہ میں ہے دوسرے نمبر پر عارف والا (پاکپتن)ہے جہاں قصور تک کے علاقے سے آلو آتا ہے اور پاکستان بھر میں لدان ہوتا ہے اور اور ملک سے باہر خصوصاً افغانستان، دبئی اور سعودی عرب بھی جاتا ہے اوکاڑہ میں آلو کا کام کرنے والے آڑھتی سینکڑوں میں ہیں اور اس کی تحصیل دیپالپور میں انٹرنیشنل آلو منڈی ہے جہاں دنیا بھر سے خریدار آتے ہیں اور روزانہ سینکڑوں ٹرالر لوڈ ہوتے ہیں یہ علاقہ آلو کی پیداوار کے لئے پاکستان کا ایک قیمتی اثاثہ ہے

ادرک لہسن کے علاقے

ادرک اور لہسن چائنا سے آتا ہے پاکستان میں ادرک کی کاشت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ لہسن بھی ضرورت سے کہیں کم پیدا ہوتا ہے حکومتی پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے پہلے توپاکستان میں ادرک کی کاشت بند ہوگئی محکمہ زراعت بھی چونکہ کاغذی کاروائیوں تک محدود ہے اور دیگر محکمہ جات کی طرح اس محکمہ کے سربراہ بھی سفارشی اور نااہل ہوتے ہیں لہٰذازراعت کا مستقبل پاکستان میں تاریک ہے جبکہ انڈیا میں اس کی پیداوار اتنی کثیر ہوتی ہے کہ تازہ ادرک استعمال کے علاوہ خشک کرکے اس کو دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے دیسی لہسن کی کاشت حکومتی حوصلہ افزائی نہ ہونے کے باعث ختم ہوگئی ہے اب اگر چہ لہسن کی کاشت کو دوبارہ فروغ مل رہا ہے ہرنائی کی ورائٹی حکومتی امداد کے بغیر ہی فروغ پارہی ہے اور ہائی برڈ لہسن نارک G1کی پیداوار بھی فروغ پارہی ہے جس کی وجہ سے امید ہوچلی ہے کہ پاکستان لہسن کی پیداوار میں خودکفیل ہوجائے۔

آلو پیاز کی فروخت کا طریقہ کار

کراچی کی بھاری آبادی (3کروڑ)کی وجہ سے یہ ایک بڑی کھپت کی صارف منڈی ہے آلو پیاز کی فروخت دیگر منڈیوں کی طرح بولی کے ذریعے نہیں ہوتی بلکہ ہاتھوں پر کپڑا رکھ کر انگلیوں کے خفیہ اشاروں کے ذریعے ہوتی ہے جو صبح 6بجے تا12بجے تک جاری رہتی ہے۔پاکستان بھر کی کسی منڈی میں ایسا طریقہ کار کہیں نہیں ہے ہر جگہ اوپن آکشن ہوتی ہے گوادر سے لے کر سکردو تک پاکستان بھر میں 600سے زائد سبزی منڈیاں موجود ہیں مگر کراچی کا دستور نرالا ہے۔

کراچی آلو پیاز منڈی اور عوام کی دسترس

پرانی منڈی جو کہ شہر کے اندر تھی تو عوام کو یہ سہولت تھی کہ وہ ہفتہ بھر کی سبزی ہول سیل ریٹ پر قریب ترین مقام سے حاصل کرسکتے تھے پھر اس منڈی کو ختم کردیا گیا اور منڈی نئی جگہ جو کہ پرانی منڈی سے 50کلومیٹر دور ہے کو بنایا گیا جس کی وجہ سے یہ سبزی منڈی عوامی دسترس سے دور ہو گئی ہے اب سرمایہ کار لوگوں نے منڈی سے سبزی، فروٹ اور آلو پیاز خرید کر کراچی کے مختلف علاقوں میں گودام اور اڈے قائم کردیئے ہیں جہاں وہ من مانی قیمتوں پر آلو پیاز اور ادرک لہسن فروخت کرتے ہیں عام آدمی اس صورت حال میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

نئی سبزی منڈی کی ابتر صورت حال

ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں صفائی کا کوئی انتظام نہیں سیوریج اکثر بند رہتی ہے جس کی وجہ سے گندہ پانی سڑک پر جوہڑ کی شکل اختیار کرچکا ہے ہر طرف تعفن ہے سڑکیں ادھڑ چکی ہیں ہر طرف گڑھے ہیں راستے دھول  سے اٹے ہیں جب بھی کوئی گاڑی گزرتی ہے تو گرد وغبار کے بادل اُٹھتے ہیں اور سارا ملبہ سبزی فروٹ پر اور لوگوں پر آگرتا ہے مسلمانوں کے لئے کتنے شرم کی بات ہے کہ جن کا ماٹو صفائی نصف ایمان ہے مگر عمل نہیں کرتے ماشہ خور حضرات شام کو گرد وغبار سے اٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی شکل پہچانی نہیں جاتی منڈی میں جانے والا ہر شخص جب منڈی سے باہر آتا ہے تو لگتا ہے کہ جیسے یہ کئی سو میل کا پیدل سفر کرکے آیا ہے۔بارش ہوجائے تو مہینوں تک کیچڑ نہیں سوکھتا لوگ گندے پانی اور کیچڑ سے گزرتے رہتے ہیں اور بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور کبھی بارش ہوجائے تو کئی ہفتے پانی نہیں سوکھتاکیونکہ نکاسی کا بندوبست نہیں ہے پانی کھڑے کھڑے بدبودار کیچڑ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس میں سے لوگوں کو گزرنا پڑتا ہے۔

حکومتی ترجیحات

حکمرانوں کی اپنی انفرادی ترجیحات ہیں سبھی لوٹ مار میں آگے ہیں اور بھتہ وصول کرتے ہیں اعلیٰ عہدہ دار سے لے کر چپڑاسی تک جہاں لوٹ مار کے مواقع موجود ہوں نہیں چھوڑتے مارکیٹ کمیٹی کے گریڈ 7ملازم بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں نئی سبزی منڈی لوٹ مار کا شکار ہوکر بدحال ہوچکی ہے قبضہ گروپ انتظامیہ کی آشیر باد سے پارکنگ اور راستوں پرقابض ہوکر عوام کا گزرنا محال کرچکے ہیں۔نیز آڑھتی خود ہی اپنی دکان کے آگے کی جگہ پرچون فروشوں کو کرایہ پر دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو گزرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔

دیگر ممالک کی سبزی منڈ یاں

دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سبزیاں منڈیاں ہیں سعودی عرب میں منڈیاں انتہائی صاف ستھری ہیں منڈی کی اندرونی سڑکیں ہموار اور آکشن شیڈ ماربل سے مزئین ہیں بولی کا وقت ختم ہوتے ہی بلدیہ کی صفائی کرنے والی جدید قسم کی گاڑیاں آجاتی ہیں جو منٹوں میں صفائی کردیتی ہیں کہیں بھی کسی قسم کی بدنظمی یا گندگی نظر نہیں آتی دبئی اور دیگر ممالک میں بھی سبزی منڈیوں کا نظام بے حد ترقی یافتہ ہے پاکستان کو ان ممالک سے سیکھنا چاہئے اور اپنے ملک میں بھی منڈیوں کو عوام کیلئے باسہولت اور آسان رسائی کو ممکن بنانا چاہئے۔

کراچی منڈی کے مسائل کا حل

3کروڑ کی بھاری آبادی رکھنے والے اس شہر کے لئے ایک منڈی قطعی ناکافی ہے دنیا کے سو سے زائد ممالک کراچی سے کم آبادی رکھتے ہیں ہونا یہ چاہئے کہ کراچی کے ہر ٹاؤن میں ایک سبزی منڈی حکومتی سطح پر قائم کی جائے اور لوگوں کو فریش سبزی فروٹ اور آلو پیاز ان کو گھر سے قریب ترین سستے اور تازہ حالت میں مل سکیں اس کے لئے ہمارے حکمرانوں کو گریبان سے پکڑ کر یہ کام لینا ہوگا عوامی نمائندے اگر اس کار خیر میں اپنا کردار ادا نہ کریں تو عوام انہیں مسترد کریں اور آئندہ الیکشن میں پیشہ ور سیاستدانوں کی بجائے عوام میں سے عام آدمیوں کو منتخب کریں اور یوں اپنے مسائل کا حل کریں۔